اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، پزشکیان نے امریکا کے مقابل یورپی ممالک کے انفعال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسنیپ بیک اور جوہری معاہدے (برجام) کے معاملے میں یورپی اقدامات اور امریکا کے زیرسایہ دشمنانہ پالیسیوں کا حصہ بننے کے باعث یورپ عالمی معاملات پر اثرانداز ہونے کے عمل سے باہر ہوگیا ہے۔
ایرانی صدر نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ یورپی ممالک نے جنگ کے دوران امریکا کی مدد کی، کہا کہ ایران توقع رکھتا ہے کہ یورپی ممالک اپنے طرز عمل پر نظرثانی کریں گے اور اپنی آزادی و خودمختاری برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ میں بعض ممالک کی بے عملی تو دیکھی گئی، لیکن غیرجانبداری نہیں دیکھی۔
پزشکیان نے علاقائی سلامتی کو خطے کے ممالک کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی حکومتوں کی مداخلت کے باعث نہ صرف خطے کی بلکہ پوری دنیا کی سلامتی متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی حالیہ واقعات کی وجوہات جاننا چاہتا ہے تو اسے مغربی حکومتوں کے طرز عمل پر توجہ دینی چاہیے۔
یورپی کونسل کے صدر نے ملاقات میں علاقائی معاملات میں یورپ کے کردار کی خواہش ظاہر کی، جس پر پزشکیان نے جواب دیا کہ یورپی ممالک نے امریکا کے پیچھے کھڑے ہوکر خود کو اس کردار سے محروم کردیا ہے۔
ایرانی صدر نے گزشتہ روز امریکا میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب بھی کیا تھا، جسے عالمی میڈیا میں وسیع پیمانے پر رپورٹ کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ